نپولین کی 53 فتوحات اور 7 ناکامیاں، واٹر لو کی شکست پھر بھی جان نہیں چھوڑتی


Mian Fayyaz Ahmed Posted on November 24, 2020

لاہور: دنیا کے سب سے بڑے جرنیل نپولین بونا پارٹ نے کتنی جنگیں لڑیں؟ صحیح طور پر مورخین کچھ نہیں جانتے۔ کسی نے 70 اور کسی نے 60 جنگوں کا حوالہ دیا ہے۔ ایک محتاط رائے میں نپولین نے 50 جنگیں لڑیں، اس کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی تعداد بھی 7 اور 8 بتائی جا رہی ہے۔

ہسٹری ایکسٹرا میں نپولین بونا پارٹ، عظیم فتوحات اور المناک بربادیاں کے زیر عنوان شائع شدہ مضمون میں جنگوں کی تعداد 60 بتائی گئی ہے جبکہ وکی پیڈیا کے نزدیک 70 مرتبہ میدان جنگ میں اترا۔

زیادہ تر مورخین نے تعداد 50 اور 60 بتائی ہے۔ پیٹرک جے کیکگر نے اپنے مضمون   نپولین جنگ واٹر لو میں شکست خورد ہ کیوں لوٹا؟ میں اسے دنیا کا کامیاب ترین جنرل قرار دیتے ہوئے شکست کا سبب بیماری اور عمر رسیدگی بتائی۔

کچھ مورخین کے مطابق عمر کے آخری حصے میں لڑی جانے والی جنگوں میں ناکام رہا ہے جبکہ جوانی میں وہ ناقابل شکست رہا ہے۔ وہ درجنوں کامیابیوں کے باوجود اس ایک جنگ کی شکست کا داغ دھونے میں ناکام رہا ہے۔ ہر ناکامی پر کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارا واٹر لو ہے ! جنگ واٹر لو شکست کا استعارہ بن چکی ہے۔

اٹلی کی فتوحات (1796ء تا 1797ء )

نپولین بونا پارٹ زندگی کی ابتدائی جنگوں میں بھرپور فتوحات سیمٹتا ہوا واپس آیا۔ اٹلی کا میدان جنگ (1796ء تا 1797ء) شاہد ہے جہاں اس نے کہیں بڑی اور مسلح فوج کو دھول چٹائی۔

اٹلی میں داخل ہوتے وقت اس کی فوج اطالوی فوجوں کے مقابلے میں کہیں کمزور تھی، اسلحہ تھا نہ عددی برتری۔ لیکن یہ جرنیل اٹلی کا بڑا سرنگوں کرنے میں کامیاب رہا۔ اعلیٰ ترین جنگی حکمت عملی کے بغیر یہ فتح ناممکن تھی، ورنہ اطالوی فوجوں نے بھی کمال کی صف بندی کر رکھی تھی۔

نپولین انہیں جوابی کارروائی کے لئے چند گھنٹے بھی دے دیتا تو اطالوی فوج اس پر اس کا صفایا کر دیتی۔ نپولین بجلی کی سی تیزی سے حملہ آور ہوا، پہلے حملے میں آسٹرین فوج اور ساردینی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔

ایک مہینے کے اندر اندر، اپریل میں انہیں شکست دیتا ہوا پیڈمونٹ (Piedmont) سے آگے نکل گیا۔جنوری 1797ء میں نپولین نے فتوحات کو برقرار رکھتے ہوئے جنگ ریوولی (Battle of Rivoli) میں بھی دشمن کو دھول چٹائی۔ آسٹریا کے 14ہزار فوجی مارے گئے، نپولین کا نقصان 5ہزار تھا ۔ نپولین کا خوف اس قدر تھا کہ اس کی پیش قدمی دیکھتے ہی آسٹریاکی فوج بھاگ کھڑی ہوئی۔ اسے وی آنا میں واک اوور مل گیا ۔   ٹریٹی آف کیمپ فارمیو‘‘ (Treaty of Camp Formio) کے ذریعے شمالی اٹلی حاصل کر لیا۔اس عظیم فتح کے بعد فرانس میں اس کا استقبال قومی ہیرو اور جنگی حکمت عملی کے لاثانی ماہر کی حیثیت سے کیا گیا۔

آسٹرلیز کی فتح (1805ء):اٹلی میں فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد ایک اور عظیم ترین فتح نپولین کے دماغ میں تھی۔آسٹریا کا وجود ہی اس کے دل میں کانٹے کی مانند چبھ رہا تھا۔  2دسمبر 1805ء کو اس نے آسٹروی سلطنت کا نام و نشان مٹانے کی خاطر مخصوص جنگی حکمت عملی کے آسٹریا کے سرحدی شہر آسٹرلیز کے قرب میں اپنی فوجوں کو واپس بلا لیا۔وہ یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ نپولین واپس جا چکا ہے اب اندر آ جائو، یا تیاری کی ضرورت باقی نہیں رہی یہ سرحدیں محفوظ ہو گئی ہیں‘‘۔(ہسٹری ایکسٹرا)۔ اپنی فوج کے بڑے حصے کی واپسی سے مخالف فوجوں کو یہ تاثر دیا کہ اگر   وہ چاہیں تو نپولین کی 68ہزار فوج موجود ہے ،اسے برباد کیا جا سکتا ہے‘‘۔یوں وہ روسی زار الیگزنڈر اول اور رومن سلطنت کے شہنشاہ فرانسس اول کو جال میں پھنسانا چاہتا تھا۔ جس کے فوراََ بعد نپولین نے ان کی سپلائی لائن کاٹ دی۔کمک کی بندش اور کھانے پینے کا سامان ختم ہونے سے دشمن کے 26ہزار فوجی مارے گئے یا حراست میں لے لئے گئے۔ تین شہنشاہوں کی اس جنگ میں رومن سلطنت کا اتحادد پارہ پارہ ہو گیا۔ اگلی منزل برطانیہ کو نیچا دکھانے کی تھی۔

روس میں شکست (1812ء)

اٹلی میں کامیابی کے بعد دنیا کو فتح کرنے کا بھوت نپولین کے سر پر سوار ہو گیا،وہ خود کو دنیا کی ابھرتی ہوئی سپر طاقتوں پر بھی اپنا سکہ جمانے کے خواب دیکھنے لگا۔روس بھی ان میں شامل تھا۔چنانچہ 1812 ء کا وہ دن بھی آ ہی گیاجب نپولین   فتح روس ‘‘ کے مشن پر روانہ ہوا۔ 24 جون 1812ء کے معتدل موسم میں اس کی فوجوں نے دریائے نیمان (Neman River)کو عبور کر چکی تھیں۔روس کو اٹلی سمجھتے ہوئے   نپولین نے یہی سوچ رکھا تھا کہ اب تاریخ کے اوراق سے اس ملک کا نام و نشان مٹنے والا ہے۔ لوگ بھول جائیں گے کہ روس نام کا کوئی ملک بھی ہوا کرتا تھا‘‘(ہسٹری ایکسٹرا)۔ لیکن روس میں اسے منہ کی کھانی پڑی۔ ماسکو تک پہنچنے میں اسے کوئی رکاوٹ پیش نہ آئی ۔نپولین یہ اتنی پسپائی کی وجہ جاننے میں ناکام رہا۔روس کی یہ جنگی چال نپولین کو مہنگی پڑی۔روسی فوج نے کمال ہوشیاری کے ساتھ ماسکو شہر کی عمارات اور کھانے پینے کی تمام اشیاء کو آگ لگا دی تھی ۔ جلی ہوئی کھنڈر بنی ، بدبو دار عمارات کی راکھ میں کہیں کہیں راکھ میں چنگاری باقی تھی۔ معتدل موسم میں بھی شدت پیدا ہونے لگی، سورج کہیں چھپ گیا، آسمان سے برف گرنے برسنے لگی۔ دشمن کی فوج غائب تھی، اشیائے خورد و نوش کی شدید کمی تھی۔ لڑتا تو کس سے کھاتا تو کیا؟ ناکام لوٹنے کا عزم کیا۔ واپسی حملے سے بھی خطرناک ثابت ہوئی ۔برف باری سے سڑکیں بند ہونے لگیں، خون جمانے دینے والی سردی سے نمٹنے کا ساما ن ندارد، نتیجتاً نپولین کی فوج موت کا نوالہ بننے لگی۔ روسی فوجوں نے بھی جان نہ چھوڑی اور بھاگتی نپولین فوج پر حملہ آور ہو گئی۔6لاکھ فوج کے ساتھ نپولین نے دریائے نیمان کے پار پیش قدمی کی تھی ، نصف سے کم زندہ بچے۔

واٹر لو میں کیا ہوا؟

نئی تحقیق :بے چین روح کی طرح نپولین نے 1815ء میں ہی برطانیہ، روس، آسٹریا اور پورشیاء کا نام و نشان مٹانے کا تہیہ کر لیا، حالانکہ روس میں پہلے ہی تلخ تجربے کے بعد اسے ٹھنڈے دماغ سے غور کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہئے تھا لیکن دنیا کو فتح کرنے کا خواب اسکے دل میں تھا، شائد جدید دور کا سکندر اعظم بننا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے 18جون 1815ء کی تاریخ  جنگ واٹر لو‘‘ کے لئے چنی۔یہ وہی جگہ ہے جہاں اب بیلجئم قائم ہے۔حریف فوج کی کمان ڈیوک آف ویلنگٹن کر رہے تھے۔ توازن نپولین کے حق میں تھا۔ 72ہزار فوج نے 68ہزار اتحادی فوج کے مقابل تھی۔ دنیا کو سرنگوں کرنے کے خواب کی تکمیل ہونے والی تھی۔ لیکن ناقص حکمت عملی اور دیگر کئی وجوہات کی بنا ء پر اس کے 26ہزار فوجی مارے گئے یا زخمی ہوئے، 9ہزار فوجی لاپتہ اور اتنے ہی جنگی قیدی بنائے گئے۔شکست کھانے کے بعد نپولین کرپشن پر اتر آیا۔ اس نے فرانسیسی گورنر سر ہڈسن لوو (Hudson Lowe) کو نیا مکان بنا کر دینے کی پیش کش بھی کی لیکن وہ نہ مانے ،یوں نپولین کو بارہ ہزار میل کی مسافت پر جزائر سینٹ ہلینا میں ملک بدر کر دیا گیا۔ یہیں 5مئی 1821ء کو اس نے آخری سانس لی۔

16 جون 1815ء کو   جنگ لگنی‘‘ میں پروشئن فوج گین ہارڈ لیبریخت وون بلئچر کی کمان میں تھی۔ نپولین روایتی پھرتی حملہ آور،اسے سنبھلنے کا موقع نہ مل سکااور میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ نپولین نے دم دباکر بھاگتی پروشئن فوج کے تعاقب میں اپنی فوج کا یک بڑا حصہ روانہ کر دیا،اپنی عددی حیثیت کمزور پڑ گئی ۔اب اس کا مقابلہ جنرل آرتھر ویسلے ڈیوک آف ویلنگٹن سے تھا۔دونوں فوجوں نے برسلز سے درجن میل دور پڑائو ڈالا ۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نپولین ان دنوں شدید بیما رتھا۔   ہیمورائیڈز کے باعث کئی دنوں تک سو نہیں سکا۔ گھوڑے پر سوار ہونا مشکل تھا، شدید تکلیف ہوتی تھی۔بیماری، نیند کی کمی، بڑھتی ہوئی عمر اس کی شکست کا سبب تھے۔

تحریر: صہیب مرغوب